مولانامحمدولی رحمانی نے طلاق ثلاثہ اوریکساں سول کوڈکو’الگ الگ مسئلہ‘ کہنے پرحکومت کوآڑے ہاتھوں لیا
نئی دہلی 16؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو پر جوابی حملہ کرتے ہوئے آج کہا کہ نائیڈو اس معاملے پر دلیل ہیں اورمرکزی حکومت تین طلاق کی آڑ میں یکساں سول کوڈ کے مسئلے کو مضبوطی دینے کے لئے آئینی کمیشن کا’’استعمال‘‘کر رہی ہے۔بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نے پی ٹی آئی سے ٹیلی فون پر بات چیت میں کہا کہ نائیڈو نے تین طلاق کے موضوع پر لاء کمیشن کی طرف سے جاری کئے گئے سوالنامے کو لے کر سیاست کرنے کا الزام لگایا ہے۔یہ بالکل غلط اور گمراہ کرنے والا ہے۔ مولانا رحمانی نے کہا کہ حکومت نے ہی لاء کمیشن کو لکھ کر بھیجا ہے کہ وہ یکساں سول کوڈکو نافذ کرنے کے اقدامات کے بارے میں رائے دے۔ایسے میں بابو نائیڈو کا یہ کہنا کہ یکساں سول کوڈ اور تین طلاق کے مسئلے الگ الگ ہیں،بالکل جھوٹ اور غلط اورگمراہ کن ہے۔دراصل مرکز کی بی جے پی حکومت اپنے انتخابی منشور میں یکساں سول کوڈلاگوکرنے کے اپنے وعدے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے لاء کمیشن کا’’استعمال‘‘کر رہی ہے۔مولانا رحمانی نے کہا کہ ان کے اس بیان کے پیچھے دلیل یہ ہے کہ لاء کمیشن نے یکساں سول کوڈ کو لے کر جو سوالنامہ جاری ہے، اس میں مسئلے کو انتہائی صفائی سے یکساں سول کوڈ کی طرف لے جایاگیاہے۔اس سوالنامے میں صاف کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں’’ڈایریکٹو پرنسپل 44‘‘کی بنیادی قانونی ضرورت ہے۔اسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاء کمیشن نے جو کیا ہے، وہ حکومت کے ایجنڈے کو پورا کرنے کیلئے ہی کیاہے۔تین طلاق اورلاء کمیشن کی سوالنامے کے معاملے پر بورڈ کی طرف سے سیاست کیے جانے کے نائیڈو کے الزام کاجواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم نے کوئی سیاست نہیں کی ہے۔ہم نے تو صرف آواز اٹھائی ہے کہ مذہبی قانون کوچیلنج نہ کیا جائے اور اس کے لئے آپ کا آئینی نظام ہے، اس سے چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے۔یکساں سول کوڈ کو لے کرحکومت کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ آئندہ 18سے 20نومبر کے درمیان کولکاتہ میں بورڈ کی ایک میٹنگ کریں گے جس میں تین طلاق کو لے کرپیدا ہوئی صورتحال اورلاء کمیشن کے معاملے پر بھی وسیع بحث ہوگی۔تفصیلی ایجنڈا بعد میں جاری ہوگا۔معلوم ہو کہ مرکزی اطلاعات و نشریات کے وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے جمعہ کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ پر یکساں سول کوڈ کے معاملے پر لاء کمیشن کے اقدام پر سیاست کرنے کا الٹاالزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ تین طلاق اور یکساں سول کوڈ دو الگ الگ مسائل ہیں اوربورڈانہیں ایک دوسرے سے جوڑ کر الجھن پھیلا رہا ہے۔اس درمیان بورڈ کے سینئر رکن مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہاکہ مرکزی حکومت ایک چھوٹے سے مسئلے کو بے وجہ طول دے رہی ہے۔شرعی عدالتوں میں تین طلاق کے مقدمات کی تعداد کل امور کے دو فیصد کے برابر بھی نہیں ہے۔تین طلاق کے جو بھی مسئلے ہوتے ہیں، ان کی پوری جانچ پڑتال کے بعد ہی کوئی فیصلہ دیا جاتا ہے۔یہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔اب اچانک یہ معاملہ کیوں اٹھایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بورڈ اس معاملے پر مسلمانوں کے اصل جذبات کو کمیشن تک پہنچانے کیلئے دستخطی مہم چلا رہا ہے۔اس کی رپورٹ کمیشن کے پاس بھی بھیجی جائے گی۔